کبوتروں کا ہاضمہ اور بند پوٹ کے مسائل

کبوتروں کا ہاضمہ: اسلام علیکم امید کرتا ہوں کہ سب دوست بفصل خدا خیریت سے ہونگے۔ کوئی دوست کسی مشکل میں ہے تو دعا کرتا ہوں اللہ کریم اس کی مشکل میں آسانی فرمائے آمین۔ دوستو آج ایک نئے اور منفرد موضوع کو لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ کوشش کرونگا کہ میری اس رائے سے اس تحریر سے کسی بھی شوقین دوست کو فائدہ حصل ہو سکے۔ اکثر دوست کبوتروں کے ہاضمے کی شکائیت کرتے ہیں کہ کبوتر کا ہاضمہ ٹھیک طرح کام نہیں کررہا۔ کبوتر دانا ٹھیک کھاتے ہیں لیکن وجود کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ یا پھر کبوتر پوٹ بند کا مسئلہ درپیش ہے وغیرہ وغیرہ۔

دوستو ایک بات زہن میں ازبر کر لیں کہ اگر کبوتر صاف پانی پی رہا ہے اور پیا جانے والا پانی جراثیم سے پاک ہے۔ جس برتن میں کبوتر پانی پیتے ہیں وہ بالکل حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق جراثیم سے آلودہ نہیں ہے۔ جو دانا کبوتر کھا رہے ہیں اس دانے میں جتنے بھی قسم کا دانا مکس ہے وہ دانا بالکل صاف ستھرا ہے۔ دانے میں کوئی بھی مکس دانا تازہ ہے باسی نہیں ہے یا فنگس زدہ نہیں ہے۔ اسی طرح غزائیت کے اصولوں کے مطابق درست ہے تو کبوتر کبھی بھی پوٹ اور ہاضمے کی خرابی کا مسئلہ نہیں آئے گا۔

کبوتروں کا ہاضمہ اور مناسب دانہ

ہر شوقین کو کبوتروں کی خوراک میں استعمال ہونے والے دانوں کے نقصانات اور افادیت کا علم ہونا چاہیے۔ کہ کون سا دانا کس موسم میں دینا ضروری ہے۔ اور کونسا ایسا دانا ہے جو موسم کے حساب سے نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر سردیوں میں جب کبوتروں کی پر پٹائی ہوتی ہے تو میں نے اکثر دیکھا ہے کہ شوقین دوست کم علمی کی وجہ سے سرسوں کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ سرسوں کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ سرد موسم میں جب کبوتروں کے پر اکھاڑ دیے جاتے ہیں تو کبوتر کو زیادہ سردی لگتی ہے۔ کیونکہ کبوتروں کو پروں کے ساتھ سہولت میسر ہوتی ہے جس سے وہ جسم کو کور کر کے سردی سے خود کو محفوظ رکھتے ہیں۔

پرپٹائی میں چونکہ کبوتر زیادہ سردی محسوس کرتے ہیں اس لیے ان کو ایسا دانا ڈالنا جو جسم کو مزید سرد کرتا ہو ناسمجھی ہے۔ پر پٹائی کے وقت کبوتروں کو آئل حاصل کرنے اور گرم رکھنے کے لیے توریا خردم السی موٹھ وغیرہ استعمال کرنے چاہیے۔ جو گرم تاثیر والے دانے ہیں۔ جو کبوتر کے وجود کو اندر سے گرماہٹ مہیا کرتے ہیں۔ اسوج کی پر پٹائی میں صرف اور صرف سرسوں باقی عام روٹین کے دانے کے ساتھ استعمال کرنی چاہیے۔ السی موٹھ توریا وغیرہ ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح شوقینوں کو مخلتف بیماریوں اور مشکلات سے بچنے کے لیے دانوں کی گرم سرد طبعیت کا ادراک ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ اس طریقے سے بھی پوٹ اور ہاضمے کی بہت سی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔

کبوتروں کے پیٹ میں کیڑے اور بند پوٹ کے مسائل

اگر کسی بھی دوست کے کبوتروں کے پیٹ میں کیڑے ہیں تو یہ سب چیزیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ان کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ خوراک اچھی سے اچھی بھی ہو تو اس بننے والا گلوکوز پیٹ کے کیڑے کھا جاتے ہیں۔ کبوتر دن با دن کمزور تر ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے کبوتر جو کچی زمین پر رہتے ہیں اور ان کو کھانے کے لیے مٹی وافر مقدار میں ملتی ہے۔ ایسے کبوتر پیٹ کے کیڑوں کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایسے کبوتروں کے پیٹ کے کیڑوں کا مناسب علاج کرنا نہائیت ضروری ہے۔

Pigeon Deworming - کبوتروں کے پیٹ میں کیڑے

ہر تین مہینے بعد کبوتروں کے پیٹ کے کیڑوں کا سدباب کرنا چاہیے۔ جو کبوتر پکے کھڈوں اور فرش پر رہتے ہیں جہاں کبوتروں کو کھانے کے لیے مٹی نہیں ملتی ان کو چھ مہینے بعد کیڑوں کا کورس کروانا لازم ہے۔ یاد رہے کہ جو شوقین دوست کیڑوں کا مناسب علاج نہیں کرتے ان کے کبوتروں کی پوٹ بھی ایک دن کیڑوں سے بھر جاتی ہے۔ یہاں تک کہ کبوتر کی گردن میں بھی کیڑے اپنا بسیرا کر لیتے ہیں جن کی وجہ سے کبوتر اکثر اپنی گردن کو ملتا رہتا ہے۔ گردن ملنے کی دوسری وجوہات بھی ہوتی ہیں جو یہاں بیان کرنا آج کا موضوع نہیں ہے۔ اس کے ساتھ کبوتر پوٹ کے مسائل کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔

گندا پانی اور بند پوٹ کے مسائل

صاف پانی اور صاف دانا کھانے اور پیٹ کے کیڑے نا ہونے کے باوجود بھی اکثر کبوتر پوٹ کے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی بھی چند وجوہات ہیں ۔ پانی اچھا نا ہونا۔ اکثر علاقوں کا پانی حفظان صحت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ کسی میں پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور کچھ پانی کھارے ہوتے ہیں۔ یا اس پانی میں دوسرے ایسے فالتو عناصر موجود ہوتے ہیں جو حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پانی چپچپا ہونا۔ پانی میں نمک زیادہ ہونا۔ پانی کڑواہٹ والا ہونا یا زائقے میں ٹھیک نا ہونا۔ ایسا پانی پینے والے نا تو انسان فٹ رہتے ہیں اور نا ہی پرندے۔ ایسے پانی کے استعمال سے بھی کبوتروں کو ہاضمے کے مسائل کے ساتھ دوسرے کئی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑھتا ہے۔

خراب دانہ اور کبوتروں کا ہاضمہ

پورا سال ایک ہی قسم کا دانا کھانے والے کبوتر بھی پیٹ کے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ موسم کے بدلنے کے ساتھ دانا بھی بدلتے رہنا چاہیے۔ دور جدید میں کبوتروں کے لیے ملنے والا دانے کی فصل کو جدید طریقوں سے پیدا کیا جا رہا ہے۔ جس کے بہت سارے مضر اثرات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ فصلوں پر مخلتف قسم کی کیڑے مار زہریلی ادویات کا چھڑکاو کیا جاتا ہے۔ پھر جب اسی دانے کو سٹور کرتے وقت بھی مختلف زہریلی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جو دانے میں موجود بعض فائدہ مند غزائی عناصر کو ختم کر دیتا ہے۔

 زہریلی سپرے اور دوسری زہریلی ادویات جہاں دانے کی ڈائیٹ کی افادیت میں کمی کرتی ہیں وہیں ان زہر کے اثرات کبوتر میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ جو نظام انہظام کے علاوہ دوسرے صحت کے مسائل بھی پیدا کرت رہتے ہیں۔ ان ادویات سے جو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے وہ جانور کے جسم میں جتنے بھی فرینڈلی بیکٹیریا ہوتے ہیں ان کو بھی بہت متاثر کرتی ہیں۔ فرینڈلی بیکٹیریا کی وجود میں کمی سے سیلف ڈیفنس کمزور پڑھ جاتا ہے۔ سب سے پہلے ہاضمہ اور پیٹ کے مسائل اجاگر ہوتے ہیں۔

اینٹی بائیوٹک ادویات کا بے دریغ استعمال بھی انسانوں کے علاوہ باقی جانوروں کو بھی شدید مشکلات کا شکار کر رہا ہے۔ اینٹی بائیوٹک کا بے دریغ اور بے بجا استعمال بھی قوت مدافعت کو کمزور کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ جس سے وجود کے فرینڈلی بیکٹیریا بہت متاثر ہوتے ہیں۔ ان فرینڈلی بیکٹیریا کی وجود میں کمی کے ساتھ وجود میں رہنے والے بیکٹریا کمزور ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سیلف ڈیفنس یعنی قوت مدافعت کمزور تر ہو جاتی ہے۔

کبوتروں کا ہاضمہ اور بند پوٹ

کبوتروں کا ہاضمہ بہتر کرنے کے لئے پری بائیوٹکس اور پروبائیوٹکس کا استعمال

میری ناقص سی رائے ہے کہ دور جدید میں کبوتروں اور انسانوں کو موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے پروبائیوٹک اور کبھی کبھی پری بائیوٹک کا ستعمال لازم کرنا چاہیے۔ پروبائیوٹک جتنے بھی فرینڈلی بیکٹیریا ہیں ان کو قوت بخشتے ہیں۔ ان کی مناسب تعداد کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان سے قوت مدافعت طاقت پکڑتی ہے۔ جس سے کوئی بھی جاندار ہر قسم کی بیماریوں کا مقابلہ احسن طریقے سے کر سکتا ہے۔ اگر کسی بھی پرندے کا امونے سسٹم اور قوت مدافعت ہی کمزوری کی لپیٹ میں آ جائے تو معمولی سی بھی بیماری کا مقابلہ کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔

پری بائیوٹک چونکہ فائبر مہیا کرنے والی خوراک سے ملتی ہے۔ اس لیے ایسے دانے کا استعمال بھی بہت ضروری ہے جس میں فائیبر کا عنصر موجود ہو۔

کبوتروں کے لیے یورپی کمپنیاں بہت سے پری بائیوٹکس اور پروبائیوٹکس ادویات تیار کرتے ہیں۔ ان پر ان کے استعمال کے طریقے بھی درج ہوتے ہیں۔ میری رائے ہے کہ ہر شوقین کو ہر موسم میں پروبائیوٹکس اور پری بائیوٹکس کا استعمال لازم کرنا چاہیے۔ اس کے استعمال کے بہت سے فوائد حاصل ہونگے۔ چاہے وہ بریڈر کبوتر ہوں یا پروازی سب کو فائدہ ملے گا۔ بہت سی موسمی اورغیرموسمی بیماریوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ کبوتر تندرست اور ایکٹو رہیں گے۔ روز مرہ کی ادویات سے بھی چھٹکارہ حاصل ہو جائے گا۔

دوستو کوئی بھی علمی تحریر ہو تو اس کو شیئر لازمی کیا کریں۔ تاکہ ہر شوقین فائدہ اٹھا سکے۔ آپ کے ایک شیئر سے کسی کی مشکل حل ہو سکتی ہے۔ مشکل میں ساتھ دینا سیکھیں کسی کی مشکل پر ہنسنے والے بھول جاتے ہیں کہ یہ وقت ان پر بھی آ سکتا ہے۔


Social Sharing

3 Comments on “کبوتروں کا ہاضمہ اور بند پوٹ کے مسائل”

Leave a Reply

Your email address will not be published.