کبوتر کی ہڈی اور جوڑ سے پرکھ – خلیفہ اویس

کبوتر کی ہڈی اور جوڑ – میرا آج کاموضوع ہے کبوتر کی پرکھ میں اسکی سپ کی ہڈی اور جوڑ کا کردار۔ مضمون شروع کرنے سے پہلے میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب میری ذاتی رائے اور تجربہ ہے لھذا اگر کسی بات پر آپ کو اختلاف ہو تو ضرور بتائیے گا۔کیونکہ حرف آخر کوئ بھی نہیں اور میں بھی ابھی سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہوں۔ بعض اوقات کسی کی سنائ ہوئ بات کوئ قصہ کوئ واقعہ انسان کے ذہن پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہےجو اس کی جستجو کے راستے میں مشعل راہ ثابت ہوتا ہے۔

یہ واقعہ مجہے میرے ایک محسن نے سنایا تھا۔ بقول ان کے کہ ہمارے راولپنڈی ایک مشہور استاد “استاد رحیم بخش مرحوم صاحب” ایک جگہ تشریف فرما تہے۔ کبوتروں کی باتیں ہو رہی تہیں کہ استاد جی نے کہا کہ کبوتر جس بھی نسل کا ہو اپنی ہڈی سے پہچانا جاتا ہے یعنی ہر نسل کی اپنی ہڈی ہوتی ہے۔ بہت باتیں ہوئیں اور باتوں میں بات گم ہو گئ۔

ایک دفعہ استاد جی لاہور گئے وہاں پر لوگوں نے پھر اس بات کو پکڑ لیا۔ استاد جی کی آنکہوں پر ڈبل پٹیاں باندھی گئیں کہ کہیں دیگھ ہی نہ لیں۔ مختلف نسلوں کے کبوتر لائے گئے استاد جی نے ہر دفعہ کبوتر کو ہاتھ میں پکڑ کے پرکھا اور صحیح نسل بتا دی جس پر وہاں بیٹہے تمام استاد بہت حیران ہوئے  ۔آفرین ہے استاد جی کی پرکھ پر۔ اللہ کریم کروٹ کروٹ سکون عطا فرمائیں اورمغفرت فرمائیں۔ آمین

میرے ذہن میں یہ واقعہ نقش ہو چکا ہے اور اللہ سے مانگی جانے والی بہت سی دعاوں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے کہ اللہ مجہے بھی کچھ ایسی ہی پرکھ عطا فرمائیں۔ آمین۔

“Knowledge is Power, Power provides Information; Information leads to Education, Education breeds Wisdom; Wisdom is Liberation. People are not liberated because of lack of knowledge.”

کبوتر کی ہڈی کی قسمیں

اب آ جاتے ہیں دوبارہ پوسٹ کی طرف جب ہم کبوتر کو پرکھنے کے لئے پکڑتے ہیں تو نا سمجھتے ہوۓ بھی کبوتر کی ہڈی پر ہاتھ پھیرتے ہیں چاہے کچھ سمجھ آۓ یا نا آۓ۔ میرے نزدیک ہڈی کی جو قسمیں ہیں ان میں سے ایک ہڈی کشتی نما ہوتی ہے۔ جسکو لمبی ہڈی یا کھڑی ہڈی بھی کہتے ہیں، یہ ہڈی عام طور پر 4 انگلیوں کے برابر یا کچھ ذیادہ بڑی ہوتی ہے۔

ہڈی کی دوسری قسم اردو کے حرف (ب) جیسی ہوتی ہے۔ یہ تقریبأ 4 انگلیوں کے برابر یا کچھ کم ہوتی ہے۔ ہڈی کی تیسری قسم بیٹھی ہوئ ہڈی ہوتی ہے ۔یہ ہڈی تقریبأ 3 انگلیوں کے برابر ہوتی ہے۔ ہڈی کی چوتھی قسم اردو کے حرف (ب) کی طرح ھی شروع ہوتی ہے لیکن یہ اپنی ب پوری نہیں بناتی، بلکہ درمیان میں ھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس ہڈی کو اصل میں چھوٹی ہڈی کھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنی ب کو پورا نہیں کرتی اور اس ہڈی کو درجہ بندی کے اعتبار سے سب سے کم سمجھا جاتا ہے۔

کبوترکی ہڈی کی سائیڈوں پر گوشت

ہڈی چاہے کیسی بھی ہو یاد رکھئے گا کہ ہڈی کی سائیڈوں پر گوشت بہت زیادہ نہ ہو۔ اگر گوشت ہے تو یاد رکہیں کہ گوشت پلپلا نہ ہو اور نہ ھی گوشت بہت سخت ہو، بلکہ گوشت نرم اور ملائم ہو۔اس کے علاوہ جو سب سے اہم پوائنٹ ہے وہ یہ ہے کہ ہڈی کہ دو کونے ہیں ایک بالکل شروع میں پوٹے کے نیچے اور روسرا آخر میں جوڑ سے پہلے۔ یہ دونوں کنارے چبھتے ہوۓ ہوں کاٹتے ہوۓ نوکیلے ہوں۔ ہاتھ پھیرنے سے یہ آپ کے ہاتھ میں جپھن کا احساس پیدا کریں۔

جس کبوتر کی ہڈی کے کنارے آپ کے ہاتھ میں نہ چبہیں تو وہ کبوتر کبھی بھی اے کلاس کبوتر نہیں ہو سکتا۔ جب آپ ہڈی پر ہاتھ پھیریں تو پھر ہڈی نرم ملائم اور خشک ہو۔ ہڈی کی خشکی کو سمجھنے کے لئےآپ ایک پرانی لکڑی کا کٹا ہوا ٹکڑا لیں، جیسے اس کے اوپر ہاتھ پھیرنے پر آپ کو خشکی کا احساس ہو گا بالکل ویسے ھی کبوتر کی ہڈی کا بھی احساس ہو۔

کبوتر کے جوڑ کی اہمیت

اب جب ہم ہڈی کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک ادہوری بات ہو گی کیونکہ جوڑ اور ہڈی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ جوڑ کبوتر کی پرکھ اور کارکردگی میں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبوتر کی پرکھ کے لئے بنا ہوا ایک شہرہ آفاق محاورہ ہے اس میں بھی جوڑ کا ذکر موجود ہے جو جوڑ کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔“آنکھ نقطہ۔ ۔۔۔۔پر جھکتا۔ ۔۔۔اور جوڑ پختہ” ساری کبوتر بازی کو صرف 3چیزوں میں سمیٹنے کی کوشش میں بھی جوڑ کا ذکر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

میرے نزدیک جوڑ کی بناوٹ (موٹا جوڑ، کھلا جوڑ، تنگ جوڑ، بند جوڑ) سے بھی زیادہ اہمیت جوڑ کی ہڈی کے مطابق پوزیشن کی ہے۔ جب ہم کبوتر کی ہڈی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ آگے بڑھتے ہیں تو ہم نے محسوس کرنا ہے کہ جوڑ کس پوزیشن میں آیا۔ جوڑ ہڈی سے اوپر آیا اور آپ کا ہاتھ جوڑ کہ چھوۓ بنا آگے نکل گیا یا جوڑ نے آپ کا ہاتھ روک لیا۔ یعنی آپ کی انگلی جوڑ کو ٹکرا کے رک گئ۔

اب جس کبوتر پر آپ کی انگلی ہڈی سے گزر گئ اور جوڑ کا پتہ بھی نہیں چلا تو وہ کبوتر ھر امتحان میں پاس ہو گا۔ اڑان میں بھی اور بریڈ میں بھی اور جس کبوتر پر آپ کا ہاتھ رک گیا۔ وہ بی کلاس ہو گا۔ اڑنے میں کام دے جاۓ تو ٹھیک نہیں تو اس برڈ کو بریڈ میں استعمال نہ کریں۔ پھر جوڑ جتنے چہوٹے اور ملائم ہوں گے اتنے اچھے ہوں گے۔ بڑے اور موٹے جوڑوں والے کبوتروں کو ھائ فلائر برڈز میں پسند نہیں کیا جاتا۔

کبوتر کے جوڑ کی بناوٹ

کھلے جوڑ کا کوئ مئسلہ نہیں ہوتا۔ ایسے کبوتر جوڑوں میں بھی کام کرتے ہیں اور اڑان میں بھی۔ اب غور کرنے کی ایک اور بھی بات ہے وہ یہ کہ جوڑ بیلنس ہوں، جوڑ آگے پیچہے اور ٹیڑہے میڑہے نہ ہوں اور چیک کرنے پر ان کا بیلنس خراب نہ ہو۔ بعض اوقات جوڑ ہڈی کی بالکل سیدھ میں ہوتا ہے۔ وہ جوڑ بھی اچھا ہوتا ہے بشرطیکہ وہ بیلنس ہو۔ ایسا جوڑ عام طور پر ہڈی کی تیسری قسم میں آتا ہے اور میرے حساب میں ہڈی کی تیسری قسم نایاب ہے جو بہت کم کبوتروں میں ہوتی ہے۔ یہ ہڈی اگر پریل کبوتروں میں ہے تو پھر تو لا جواب ہے۔لیکن اگر یہی ہڈی مسیل کبوتروں میں ہے تو پھر یہ ہڈی کامیاب نہیں۔

ہڈی کی چوتھی قسم جو آدھ میں آ کر ختم ہو جاتی ہے اس ہڈی کے کبو تر اکثر گر جاتے ہیں جب بھی کبوتر زور مارتے ہیں وہ گھر نہیں پہنچتے یا پھر کہیں بیٹھ کر آتے ہیں۔ بات کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ہڈی کے کونے چبھتے ہوں۔ہڈی ملائم اور خشک ہو۔ ہڈی کی ب پوری بنے۔جوڑ بیلنس ہوں۔ بند ہوں تو زیادہ اچھی بات ہے لیکن اگر کھلے بھی ہیں تو کوئ مئسلہ نہیں۔ بس جوڑ بیلنس ہوں۔ جوڑ ہڈی سے اوپر ہوں۔ ہڈی سے نیچے یا باھر کی طرف نہ نکلے ہوں۔جوڑ ریشم کی طرح ملائم اور نرم ہوں۔

سینئر اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو پڑہیں۔۔ُ۔۔اگر کہیں کوئ غلطی ہو گئ ہے تو درگزر فرما کر اس کی درستگی فرما دیں۔۔۔۔۔کیونکہ جب آپ کسی کے راستے کو روشن کرتے ہیں تو الله تعالی کے خاص فضل و کرم سے آپ کا راستہ خود بخود روشن ہو جاۓ گا۔

اجازت چاہوں گا آپکا بھائ خلیفہ اویس

Social Sharing

Leave a Reply

Your email address will not be published.