جالندھری لاکھے کبوتر اپنی ذات میں انمول

جالندھری لاکھے کبوتر – ایک نایاب بریڈ جس کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ مگر یہ بھی اپنی ذات میں انمول اور استاد گر بریڈ ھے۔ یہ کبوتر جالندھر سے ایک ڈی ایس پی پولیس کے تھے۔ جو راولپنڈی لائے تھے انڈیا سے اور یہاں سے یہ پھیلے۔ جالندھری لاکھے مختلف شکلیں اختیار کر چکے ہیں۔ مگر اپنی مثال آپ ہیں۔ بھونچال، لال داغوں والے شکرے سرخ جالدار۔

یہ ایسے کبوتر ہیں جن کی دم کو بھی کوئی کبوتر پکڑ نہیں سکتا۔ پنڈی بھٹیاں والوں کے پاس پپلاں والوں کے پاس 79 والوں کے پاس ابھی تک انہی کے کراسوں میں سے پرفارمنس دے رہے ہیں۔ ان سے ذیادہ ہٹ اور تیزی کسی دوسرے کبوتر میں نہیں دیکھی۔ یہ اتنے چالاک ھوتے ہیں کہ اگرگھر کسی وجہ سے نہ مل سکے تو جنگلی کبوتروں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ میرے اور میرے استاد کےفیورٹ کبوتر ہیں۔ اگر آپ کو ایک جوڑا بھی 50 فیصد حالت میں مل جائے تو آپ کوئی دوسرا کبوتر کھڈے میں نہ رکھیں۔

یہ کبوتر قصور میں باڈر سے کراس کروا کر حاصل کئے۔ استاد باو شمس جو تقریبا پورے لاھور کے ھی استاد تھے انکے پاس بریڈ شکرے انہی کبوتروں میں سے تھی۔ میں نے یہ کبوتر بھی اصل حالت میں دیکھے ہیں اور اڑائے ہیں۔ ہر اچھا اڑنے والی نسل کے پیچھے ایک اچھے خون کا مالک لالسرا لال, داغ والا, ہلکے یا گہرے کلر کا ضرور شامل ہو گا۔ چاہے سیالکوٹی ہو قصوری ہو۔

جالندھری لاکھے اور علی والے کبوتر

یہ کبوتر علی والوں کی وجہ شہرت بنے ہیں۔ کیا آپ کے پاس علی والے ہیں ؟ اور کیا انکی منہ پر لال پر ہے اور انکے بازو میں کاسنی پر ھے تو وہ علی والوں میں سے ھونگے۔ اگر نہیں ھے تو وہ علی والے نہیں ھونگے۔ ان سے ملتے جلتے ھونگے۔ علی والوں کی دوران پرواز گلابی سرخ آنکھ بن جاتی ھے۔ آخری عمر میں کندے لٹکا لیتے ہیں اور گہری آنکھیں جیسے جان صاحب کے کبوتروں کی ھوتی ہیں وہ ویسی کرلیتے ہیں۔ اب آتے ہیں شکروں کی طرف تو شکرے کبوتر مسسے کبوتروں اور جالندھری کبوتروں کے ملاپ سے بنے ہیں۔ جس کبوتر میں جو جو کراس ھوتا ھے بریڈنگ اور وقت کے ساتھ سب باہر آجاتا ھے۔

Social Sharing

Leave a Reply

Your email address will not be published.