کبوتر بازی میں بیان حلفی کے قانون

بیان حلفی – السلام علیکم امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ کچھ دن پہلے لاہور ٹورنامنٹس کے لیے سید تراب حیدر کے پیج پر ایک نئے قانون کا اعلان ہوا تھا۔ جہاں وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہر کھلاڑی کو حلف اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ان کے کبوتر کے لوفٹ میں کوئی چھتری والے بلڈ لائن شامل نہیں کیا جائے گا۔

سب سے پہلے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا قرآن پاک آپ لوگوں کے لیے مذاق ہے؟ کیا آپ اسلام کے بارے میں نہیں جانتے؟ بھائیوں میں معذرت چاہتا ہوں لیکن جوئے میں قرآن پاک شامل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بڑا گناہ ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کھیل اور اس کے قوانین چیک کر لیں۔ کسی بھی کھیل میں قسم اٹھانے والا کوئی کانسیپٹ نہیں ہوتا۔ ہر کھیل کے قوانین ہوتے ہیں۔ وہی قوانین کھیل کے لیے بہترین کردار ادا کرتے ہیں۔

کبوتر بازی کا کھیل جوا ہے

جس گیم کی ٹوٹل بنیاد ہی جوئے پر کھڑی ہو جو شریعت میں حرام اور گناہ کہا گیا ہو ۔ اسی گناہ کو بہتر بنانے کے لیے شریعت کی دیوار کھڑی کر دی جائے جس دیوار کے ایک طرف ایمان اور دوسری طرف ایمان کی بے توقیری ہو تو ذرہ سوچیں کہ ہم کھیل کی آڑ میں کس طرف جا رہے ہیں۔

یہ پھر استادیاں کدھر گئیں جو آسمانی اور چھتری والے کو ہی نہیں پہچان سکتی۔ اگر چھتری والے کبوتروں کو تو مالک کبوتر دکھا کربٹھا سکتا ھے۔ تو 12 بجے چھت کھولنے کی پابندی ہونی چاہیے۔ تاکہ چھتری والےجیسے ہی چھت کھلے وہ بیٹھ جائیں، میں نے کلسرے لال آنکھ اور سفید چونچ میں دیکھے ہیں اگر سفید کبوتر کالی چونچ کے ہو سکتے ہیں تو رنگین کبوتر کی سفید کیوں نہیں ھو سکتی۔

بیان حلفی اور قسم کا قانون نا منظور

کبوتر پروری میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دو گروپوں میں شوق ہوتا ہے۔ دونوں گروہوں کے چیدہ چیدہ استاد اسی مسئلے کے حل کے لیے نامزد کردہ استاد اپنی اپنی پارٹی کے بندے کو سچا ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب استاد انصاف کرنے کے لیے چنے جاتے ہیں۔ لیکن انصاف کرنے کی بجائے اپنی پارٹی کے جھوٹے بندے کو سچ ثابت کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں انصاف فراہم کرنے کے لیے چنا گیا ہے ۔

یہاں یہ امید رکھی جا رہی ہے کہ کبوتر باز حلف پر پورے اتریں گے۔ یہ بہت بڑی زیادتی ہے کہ شوق کی خاطر اپنی آخرت کو داو پر لگا دیا جائے۔ حقائق بہت تلخ ہیں ۔جس کے کبوتر ہر سال اچھا پرفارم کرتے ہیں اس کی چھت پر اتنے الزامات لگائے جاتے کہ وہ چھت مشکوک بنا دی جاتی ہے۔ اس چھت کا شوق صرف اسی بنیاد پر برباد کر دیا جاتا ہے ۔

جب حلف ہی لے لیا گیا ہے تو پھر منصف کس حیثت سے نگرانی کرنے کے لیے بٹھایا جائے گا۔ یعنی اس قانون کو بنانے والے خود ہی مطمئین نہیں ہیں کہ کوئی اس حلف کی پاسداری کرے گا۔ تو پھر اس قانون کو قوانین میں شامل کرنے کا کیا فائدہ ہو گا۔

کبوتروں کے کھیل میں سیاست

ایک زمانے میں لاہور کبوتروں اور ان کے مقابلوں کا مرکز تھا۔ بدقسمتی سے یہ شوق اب سیاست اور کاروبار میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس کا ثبوت خود قانون میں موجود ہے کہ منتظم 10 سے 25% فیس اپنے لیے رکھ سکتا ہے۔ اس سیاست اور پہلے ہی کھیل کو ہائی جیک کرنے والے کچھ بڑے ناموں کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت اور قابل احترام اساتذہ خود کو اس فنکشن سے الگ رکھتے ہیں۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اس شوق میں شامل دوست احباب میں دیکھا جائے کہ کتنے لوگ پڑھے لکھے ہیں اور کتنے شریعت کی حدود کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ میری ناقص سمجھ کے مطابق آٹے میں نمک برابر ہیں۔ جو حلف کی حیثیت حلف کے مقام اور حلف کے خلاف جانے کے نقصانات کو بھی نہیں سمجھتے ان پر بیان حلفی کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ جو انتہائی قابل افسوس ہے۔ برائے کرم کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں اس میں شریعت کی حدود نا لگائیں۔ اس کھیل کی آڑ میں لوگوں کے ایمان کو خطرے میں نا ڈالیں اور دوبارا ان قوانین پر نظر ثانی کریں۔ شکریہ۔۔

Social Sharing

Leave a Reply

Your email address will not be published.