کبوتروں کی ویکسین کا استعمال کیوں ضروری ہے

کبوتروں کی ویکسین – اسلام علیکم دوستو۔ آج ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جس کو سمجھنا ہر شوقین کے لیے نہائیت ہی ضروری اور فائدہ مند ہے۔ میرے لیے اس موضوع پر لکھنا نہائیت ہی دشوار ثابت ہو گا۔ جب ہم کسی بھی سائنسی تحقیق کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ایک سوال میں سے آگے بیس سوال اور نکل آتے ہیں۔ ان بیس سوالوں کی اپنی ایکسٹینشن علیحدہ ہوتی ہیں۔ اگر ان سب پوائنٹس کو سپرد قلم کیا جائے تو ایک کتاب لکھنا پڑھ سکتی ہے۔ جو ناں تو ہر بندے کی سمجھ آئے گی اور نا ہی اس کو لکھنے کا مقصد حاصل ہو سکے گا۔ یہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے کسی بھی لکھنے والے کے لیے۔

لکھنے کا مقصد کسی بھی خاص بات کو سمجھانا ہوتا ہے نا کہ پڑھنے والے کے ذہن کو بھول بھلیوں میں ڈالنا۔ چونکہ یہ موضوع بہت ہی باریک بینیوں پر مشتمل ہے، اس لیے اس کو موٹی موٹی باتوں سے سمجھا پانا نہائیت مشکل کام ہے۔ بحرحال میں کوشش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں اللہ کریم مجھے اپنے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے گا انشاء اللہ۔

تحریر: استاد خان محمد بارا لاہور

بریڈر کبوتر کی پہچان

کبوتروں کی ویکسین

یہ ویکسین کیا ہے ؟
اس کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے ؟
ویکسین کے فائدے کیا ہیں ؟
اس کے نقصانات کیا ہیں ؟
اس کا ستعمال کیوں ضروری ہے ؟
کیا ہم کسی بھی ویکسین سے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں ؟
ویکسین کر لینے کے بعد ہمیں بے فکر ہو جانا چاہیے ؟
کسی بھی بیماری کی ویکسین کر لینے کے بعد ہمارے کبوتر اس بیماری سے محفوظ ہو چکے ہوتے ہیں ؟

ویکسین کیا ہے ؟

ہر وہ بیماری جو کسی بھی جاندار کو بیمار کرے اور اس کا علاج نا ہو اس کے لیے بیماری آنے سے پہلے تندرست حالت میں ویکسین کی جاتی ہے۔ جو بیماری کے جراثیم جسم میں داخل ہونے سے پہلے ہی قوت مدافعت کو اس قدر بڑھا چکی ہوتی ہے کہ بیماری کا بھرپور مقابلہ کر کے اسے شکست دے دیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس بیماری کی ویکسین کی ہوتی ہے۔ اس کے جراثیم کو جسم داخل ہونے پر ختم کر دیتی ہے، مار ڈالتی ہے یا اس کو اتنا کمزور کر دیتی ہے کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم بے ضرر ہو جاتے ہیں اور کسی بھی قسم کا نقصان کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

ویکسین کی قسمیں

ویکسین پلانے والی بھی ہو سکتی ہے اور انجیکٹ کرنے والی بھی ہو سکتی ہے۔ کچھ بیماریوں میں قطرے نما ویکسین دی جاتی ہے۔ کچھ بیماریوں میں ویکسین انجکشن کی صورت جسم میں داخل کی جاتی ہے ۔

کبوتروں کی ویکسین کب کرنی چاہئے

جس بیماری کی ویکسین دی جاتی ہے اس کی کچھ خصوصی شرائط بھی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی بھی بیماری کے اثرات رکھنے والے جاندار کو ویکسین نہیں کی جاتی۔ اس کی بھی چند وجوہات ہیں۔ مختصر یہ کہ بیماری کسی بھی جاندار کے اندرونی نظام پر اپنا منفی اثر چھوڑ چکی ہوتی ہے۔ قوت مدافعت میں کمزوری پیدا کر چکی ہوتی ہے اور جسم میں کہیں بھی انفیکشن کے اثرات چھوڑ چکی ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں ویکسینیشن کرنے سے اس کے مضر اثرات پیدا ہوتے ہیں جو اکثر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

حاصل بحث یہ ہے کہ پرندوں کو ویکسین تب ہی کریں جب وہ پوری طرح صحت مند ہوں۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح پتا چلے کہ کبوتر کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں ۔ اس کی چند نشانیاں ہیں جو میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

بیمار کبوتروں کی ویکسین نہ کریں

پوری طرح تسلی کریں کہ آپ کے پرندوں کے اندر کیڑے تو نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو ان کا پہلے سدباب کریں اور کبوتر کو ورم یا کیڑوں سے پاک کرنے کے دو ہفتے بعد ویکسینیشن کریں تاکہ کیڑوں کی وجہ سے جسم میں جو مدافعتی نظام کمزور پڑھ چکا تھا وہ بحال ہو سکے۔ یہاں ایک بات بیان کرنا بہت ضروری ہے کہ اکثر شوقین دوست پیٹ کے کیڑوں یا ورم کی میڈیسن کبوتروں کو دیکر خود کو مطمئین کر لیتے ہیں کہ اب کبوتر کیڑوں سے پاک ہو گئے ہیں۔ حالانکہ اکثریت میں ایسا بالکل بھی نہیں ہوتا۔ اس پر تفصیل جاننے کے لیے میرا ایک کالم ہے جو پیٹ کے کیڑوں پر لکھا ہوا ہے اس کو پڑھیں ۔

اگر کبوتر کسی بھی موسمی یا عام وقتی بیماری میں مبتلا ہیں تو ہرگز ویکسینیشن نا کریں۔ پہلے موجودہ بیماری کا سدباب کریں اور بیماری کو کنٹرول کرنے کے دو یا تین ہفتے بعد ویکسینیشن کریں۔

کبوتروں کی ویکسین - Pigeon Vaccination for different diseases

اگر کسی کے بھی کھڈے میں کبوتروں میں 30 فیصد سے اوپر کبوتروں کا وزن پورا نہیں ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مکمل ڈائٹ یعنی جسم کو مطلوبہ خوراک نہیں مل رہی۔ ان کو بھی ویکسینیشن نا کریں۔ پہلے کبوتروں کا خوراک کے ذریعے وزن پورا کریں۔ ان کبوتروں کی ایسی ڈائیٹ تشکیل دیں جن سے ایکسٹرا چربی کا حصول ممکن ہو سکے تاکہ کبوتر اپنا وزن مکمل کر سکیں۔ پھر ویکسینیشن کریں۔

ہم کبوتر کی ویکسینیشن کیوں کرتے ہیں

دور حاضر میں کبوتروں اور دوسرے پرندوں میں ایسی بہت سی لاعلاج بیماریاں ہیں۔ جن کی ویکسینیشن نا کی جائے تو کبوتروں اور باقی پرندوں کو محفوظ اور زندہ رکھ پانا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے کبوتروں اور پرندوں کو ویکسینیشن کرنا نہائیت ضروری ہے۔ کچھ شوقین دوست یہ فرماتے ہیں کہ میں کوئی ویکسین نہیں کرتا بلکہ فلاں میڈیسن مہینے میں ایک بار پانی میں ڈال کر پلا دیتا ہوں میرے کبوتر بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے اور غلط بھی۔

ٹھیک اس پیرائے میں ہے کہ اگر ایک شوقین کبوتر اڑاتا ہی نہیں ہے۔ اس نے ایک مخصوص سی کبوتروں کی تعداد گھر میں پال رکھی ہے۔ وہ کسی کبوتر پرور کے گھر بھی نہیں جاتا اور نا ہی کسی شوقین کو اپنے کبوتروں کے پاس آنے دیتا ہے۔ اپنے کبوتروں میں باہر کا کبوتر شامل نہیں ہونے دیتا ہے۔ کبوتروں کا دانا اس کے اپنے گھر کا ہے بازار سے نہیں خریدتا۔ تو اس حد تک تو اس بندے کے کبوتر کافی حد تک متعدی بیماریوں کے حملے سے بچے رہیں گے۔ لیکن اگر بیماری ہوا کے ذریعے اس کے کبوتروں تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔ تو پھر وہ بھی بیماری کا شکار ہونگے اور ایسی چھتیں بہت زیادہ نقصان اٹھانے کا باعث بنتی ہیں ۔

میڈیسن بار بار استعمال کرنے کا نقصان

جو شوقین دوست مہینے میں ایک یا دو بار کسی میڈیسن کا استعمال کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کبوتر متعدی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تو وہ شوقین غلط راستے پر ہے۔ ان کی سوچ سائنسی نقطہ نظر سے سراسر منفی ہے۔ بلکہ ایسی چھتوں پر متعدی بیماریاں زیادہ نقصان کا باعث بنتی ہیں ۔

جب بلا ضروت کوئی اپنے پرندوں کو میڈیسن دیتا رہتا ہے۔ مسلسل کسی بھی میڈیسن کا استعمال مضر اثرات چھو ڑتا ہے۔ وہ کبوتر میڈیسن کے بے جا استعمال سے کمزور ہو جاتے ہیں۔ دوائیوں کا مسلسل استعمال ان کی قوت مدافعت کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ جو کسی بھی جراثیمی بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ عام جراثیمی بیماری آنے سے پرندوں کا شدید نقصان اٹھاتے ہیں ۔

یہاں یہ بات قابل فہم ہے کہ جن بیماریوں کا کوئی علاج ہی نہیں ہے۔ ان سے بچنے کا واحد ذریعہ صرف ویکسنیشن ہے۔ ہر وہ بیماری جس کا علاج صرف ویکسین ہے وہ دوسری کسی بھی میڈیسن سے ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ ذرہ سوچیں جس بیماری کے لیے ویکسین کی جائے اس کا دوسری دوائیوں سے علاج ممکن ہو۔ پھر تو ویکسینیشن کرنے کا تو تصور ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اس لیے متعدی یعنی بعض جراثیمی بیماریوں سے کبوتروں کو محفوظ رکھنے کا واحد حل ویکسینیشن ہے۔

ویکسینیشن کے فائدے اور نقصانات

اگر تو آپ میری تجویز کی گئی معلومات کو مکمل کر کے ویکسینیشن کا عمل کرتے ہیں۔ تو پھر فائدہ 98 پرسنٹ ہے اور نقصانات صرف 2 فیصد ہیں۔ اگر میری پیش کردہ معلومات کے مطابق نہیں ہیں تو نقصانات کی پرسنٹیج بڑھ جائے گی۔ اس صورت تک بڑھ سکتی ہے کہ آپ کو ویکسینیشن کرنے کا کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہو گا الٹا کافی نقصان اٹھانے کا اندیشہ رہیگا۔

نقصان صرف اتنا ہے کہ مرغیوں کے لیے بنائی گئی ویکسین استعمال کرنے سے بعض نر اور مادیاں بت اور انڈوں سے رہ جاتی ہیں۔ وہ بھی تب جب پانچ سال تک لگاتار کبوتروں کی ویکسین کی جائے۔ کوشش کریں کہ جن کبوتروں کو تین سال تک ویکسینیشن ہو چکی ہو ان کو دوبارا ویکسینیشن نا کریں۔ ایسے کبوتر اپنی قوت مدافعت اتنی بڑھا چکے ہوتے ہیں کہ اس کے بعد ان کو بہت ہی کم چانس ہوتے ہیں کہ وہ اس بیماری کی لپیٹ میں آئیں۔

کبوتروں کی ویکسین کرنے کا طریقہ

ویکسین انجیکٹ کرنا یعنی ویکسین کو جسم میں داخل کرنے کا طریقہ سمجھنا نہائیت ہی ضروری ہے۔ اگر آپ اس طریقہ کار کو صحیح طور پر اور سائنس کی دی گئی ترکیب کے مطابق نہیں کرتے تو بھی بہت کم فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ جب بھی آپ ویکسین کا عمل کریں تو ان احتیاطی تدابیر کو ضرور اپنائیں۔ جو چیزیں میں درج کر رہا ہوں ان کا حصول یقینی بنائیں۔ وہ ہی ویکسین استعمال کریں جو آپ کے شہر کے موسم میں بہترین رزلٹ دے رہی ہو۔ ہر ویکسین ہر شہر میں ایک جیسا پوزیٹو رزلٹ نہیں دیتی۔ تحقیق کریں شوقین دوستوں سے معلومات لیں کہ اس شہر میں کون سی ویکسین کا رزلٹ سب سے بہتر ہے. اور اسی کو استعمال میں لائیں۔

ویکسینیشن کا عمل کرنے کے لیے کم از کم دو بندوں کا ہونا نہائیت ضروری ہے۔ ایک کبوتر کو ہاتھ میں پکڑے وہ اس طرح کہ ایک ہاتھ میں کبوتر ہو اور دوسرے ہاتھ سے کبوتر کو اس طرح پکڑا ہو کہ کبوتر کا سر انگلیوں کے پہلے پوٹوں میں ہو۔ کبوتر کی نوک ہاتھ کی ہتھیلی کی طرف ہو۔ ایسا کرنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ انجیکشن لگانے کے دوران کبوتر گردن کو حرکت نہیں دے سکے گا۔ انجیکشن آسانی سے لگ جائے گا اور ٹھیک طریقے سے لگے گا۔

گردن کی جلد میں ویکسین کا طریقہ

کوشش کریں کہ صرف وہی ویکسین استعمال کریں جو خاص کر صرف کبوتروں کے لیے بنائی گئی ہو۔ اس کے فائدے مرغیوں کی ویکسین سے زیادہ ہوتے ہیں۔ جب کبوتر کو ویکسین لگائیں تو ویکسین لگانے کے طریقے پر پورا پورا عمل کریں۔ وہ یہ کہ کبوتر کی جلد کو دو انگلیوں سے پکڑ کر جتنا بھی جلد کو اوپر اٹھ سکتے ہیں اتنا اوپر اٹھائیں اور گردن کے گوشت اور جلد کے درمیان جو گیپ بنے اس میں انجیکشن انجیکٹ کریں ۔ پوری کوشش کریں کہ جب آپ انجیکشن لگا رہے ہیں تو سوئی کا رخ جسم کی طرف ہو نا کہ گردن کے گوشت کی طرف۔ کسی بھی صورت انجیکشن کبوتر کے گوشت میں نا لگائیں۔ صرف جلد کے نیچے لگائیں۔ ویکسین بنانے والی کمپنی بھی یہی طریقہ کار بتاتی ہے۔

ویکسین ضروری ہدایات

اتنا ہی ویکسین کو کبوتر کی جلد کے نیچے انجیکٹ کریں جتنی مقدار کمپنی نے تجویز کی ہو۔ اس سے کم یا اس سے زیادہ استعمال کرنے سے فائدہ نہیں الٹا نقصان ہو گا۔ ویکسین انجیکشن میں بھرنے سے پہلے بوتل کو ہر بار اچھی طرح ہلا کر سرنج میں بھریں۔ جو بھی ویکسین استعمال کریں اس پر لکھی ہوئی ہدایات کا بغور مطالع کریں اور ان احکامات پر عمل کریں۔

اچھی کمپنی کی سرنج استعمال کریں اور اسے جراثیم شدہ ہونے سے بچائیں۔ ویکسین کی بوتل کو اس کے مطلوبہ درجہ حرارت پر رکھیں ورنہ وہ خراب ہو جائے گی۔ کبوتروں کو ویکسین انجیکٹ کرتے وقت خاص خیال رکھیں کہ اس کی سوئی آپ کے ہاتھ یا جسم کے کسی حصے پر چھب نا جائے۔ جو بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔ اگر ایسی صورت حال ہو جائے تو سوئی چھبنے والی جگہ پر سوجن بھی ہو سکتی ہے۔ ایسا ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جائیں اور ساری صورت حال سے ڈاکٹر کو آگاہ کریں۔

انجیکشن لگاتے وقت خصوصی احتیاط

انجیکشن لگاتے وقت ایک کبوتر کو سوئی چبونے کے بعد دوسرے کبوتر کو اس وقت تک وہی سوئی نا چبوئیں جب تک اس کی سوئی خون اور جراثیم سے پاک نا کر لیں۔ اس کا طریقہ بہت آسان یے۔ انجیکشن کا عمل شروع کرنے سے پہلے کسی برتن میں الکوحل یا سپرٹ ڈال کر رکھ لیں۔ ایک کے بعد دوسرے کبوتر کو انجیکشن لگانے سے پہلے برتن میں ڈالی ہوئی سپرٹ الکوحل یا شراب میں اس کی سوئی کو ڈبو دینے سے سوئی جراثیم سے پاک ہو جائے گی۔ اس عمل سے ایک کبوتر کے خون کے فاضل مادے دوسرے کبوتر کے خون میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔ جس سے کبوتر محفوظ رہتا ہے۔

ایک ویکسین کو جب استعمال کر لیا جائے تو اس میں بچنے والی ویکسین بعد میں قابل استعمال نہیں رہتی۔ بچنے والی ویکسین اسی دن کسی دوست کے کبوتروں پر استعمال کر لیں ورنہ دوسری صورت میں وہ 12 گھنٹے بعد بیکار ہو جائے گی۔ اس کو دوبارہ استعمال کرنا کبوتروں کو اپنے ہاتھوں سے زہر دینے کے مترادف ہے۔

ویکسین کے بعد وآئرس کا اٹیک کیوں ہوتا ہے ؟

پیارے شوقین دوستو اکثر دیکھنے اور سننے میں آتا ہے کہ کبوتروں کی ویکسین کرنے کے باوجود بھی کبوتر وائرس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ کبوتروں کا بہت سا جانی نقصان اٹھانا پڑھ جاتا ہے ۔ ایسا وقت کسی بھی شوقین کے لیے خوشگوار نہیں ہوتا جب کسی کی بھی پورے سال کی محنت برباد ہو رہی ہو۔

ہم سوچتے ہیں کہ ہم نے جو ویکسین کی ہے وہ اچھی نہیں ہے۔ خراب ویکسین ملی ہے جو اثر نہیں رکھتی تھی۔ یا پھر کمپنی اچھی نہیں تھی جس کی ویکسین استعمال کی ہے۔ ویکسین ہمارے موسم کو سوٹ ہی نہیں کرتی شائد۔ یا پھر ایک سوال اور اٹھایا جاتا ہے کہ فلاں بندے کی چھت پر گیا تھا۔ اس کے کبوتروں میں وائرس تھا جس کی وجہ سے وائرس کبوتروں میں آگیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہتے ہیں ایک نیا کبوتر کبوتروں میں لا کر ڈالا تھا اس میں وائرس تھا شاید اسی کی وجہ سے باقی کبوتروں میں وائرس کا حملہ ہو گیا ہے۔

 اس طرح کی دوسری بہت سی باتیں ذہن میں آتی ہیں جو بندے کو مختلف پوائینٹس پر سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ لیکن شوقین دوستو ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس کی وجوہات تو ہوتی ہیں لیکن اصل وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہوتی۔ بات تھوڑی لمبی ہے لیکن میں کوشش کرونگا کہ کسی بھی طرح اس کو سمجھا سکوں۔

اینٹی باڈیز کیا ہوتی ہیں؟

اینٹی باڈیز کس چیز کا نام ہے۔ اس کا کیا فائدہ ہے اور پرندوں کے جسم میں اس کا کیا کردار ہے۔ ہر وہ وائرس کی بیماری جس کا علاج نا ہو اس بیماری کی ویکسین ہوتی ہے۔ جو مختلف اشکال میں ہو سکتی ہے۔ لیکن کام سب کا ایک ہی ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جس وائرس سے بچنے کے لیے پرندوں کو ویکسین کی جاتی ہے وہ ویکسین صرف اسی وائرس سے بچاو کے لیے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا کرتی ہے۔ جس وائرس سے بچاو کے لیے وہ ویکسین کی ہوتی ہے اس وائرس کو جسم میں پھلنے پھولنے نہیں دیتی۔

اس وائرس کے جراثیم کو جسم میں داخل ہونے پر مار دیتی ہے۔ اپنی ایک خاص مدت کے بعد وہ اینٹی باڈیز خود کار طریقے سے خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

اینٹی باڈیز وائرس کو کیسے روکتی ہیں

مثال کے طور پر ہم نے (پی ایم وی) یعنی لقوہ جھولا کی ویکسین بالکل سائنسی طریقے کے مطابق کی ہوئی ہے۔ تو اس ٹھیک طریقے سے پرندے کی باڈی میں اینٹی باڈیز پیدا ہونگی اور جسم میں ایک ایسی آرمی کا کام کرے گی جو جس وائرس سے کبوتروں کو بچانے کے لیے ویکسین انجیکٹ کی ہوئی ہوتی ہے اس وائرس کے حملے کے وقت جسم میں داخل ہونے والے وائرس کو مار دے گی اور اس وائرس کی ایک خاص تعداد کو جسم میں زندہ حالت میں جمع نہیں ہونے دے گی جس سے کبوتر کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اس کو سائینس کی لغت میں اینٹی باڈیز کہا جا جاتا ہے۔

لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر کبوتروں میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں تو ان میں وائرس کیوں آ جاتا ہے جو کبوتروں کو بیمار کرتا ہے۔ اس کو سمجھنا اور سمجھانا تھوڑا مشکل ہے۔ لیکن اللہ نے چاہا تو میں سمجھانے کی پوری کوشش کرونگا باقی جو میرے اللہ کو منظور ہوا وہی ہو گا۔

Paramoxy Disease in Pigeons

مختلف بیماریوں کی الگ ویکسین

ہم (پی ایم وی) کی ویکسین کر کے خود کو مطمئین کر لیتے ہیں کہ اب فلاں مدت تک یہ وائرسی بیماری کبوتروں میں نہیں آئیگی۔ لیکن بعض اوقات کوئی دوسری وائرس کی بیماری جسم میں داخل ہو جاتی ہے. جس کے وائرس کو روکنے کے لیے جسم میں اس وائرس کی اینٹی باڈیز نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے کبوتر اس وائرس کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے. مثال کے طور پر آنکھوں کا وائرس پیراٹائیفائڈ کا وائرس  یا کسی اور بیماری کا وائرس جسم میں داخل ہو جاتا ہے.

ہم نے جو ویکسین کی ہوئی ہے وہ صرف (پی ایم وی) یعنی لقوہ جھولا کی ہوئی ہے. اس کی اینٹی باڈیز دوسرے وائرس کو ختم نہیں کرے گی. چونکہ وہ خاص لقوہ جھولا کے لیے بنی ہوئی ہے تو لقوہ جھولا کی ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز کسی بھی دوسری بیماری کے جراثیم کے خلاف کام نہیں کرے گی۔

مثال کے طور پر انسانوں کے بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے قطرے اور انجیکشن لگائے جاتے ہیں لیکن وہ قطرے اور انجیکشن کرونا یا ڈینگی کے وائرس کو نہیں مارتے۔ کرونا اور ڈینگی کے وائرس کو مارنے کے لیے کرونا اور ڈینگی کی ویکسین علیحدہ سے لینی ضرور ہے۔

۔ اینٹی باڈیز ویکسین کے بعد وآئرس کا اٹیک کیوں ہوتا ہے

اسی طرح کبوتروں میں بھی کوئی ایسی ویکسین نہیں ہے جو ہر وائرس کی بیماری سے ان کا تحفظ کر سکے۔ اسی طرح جیسے ہی کوئی دوسری وائرس کی بیماری پرندوں میں آتی ہے تو اس کے منفی اثرات کے ردعمل سے کبوتر کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔

کبوتر کی اچھی صحت اور اینٹی باڈیز

جسم خود بھی مختلف بیماریوں سے تحفظ کے لیے جسم میں اینٹی باڈیز بناتا ہے۔ جو مختلف موسمی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے اور وہ اینٹی باڈیز صرف اس حالت میں ہی بنتی ہیں جب کبوتر تندرست ہو

کبوتر طاقتور اور تندرست ہو تو جسم خود کار طریقے سے اپنے وجود میں اینٹی باڈیز بناتا رہتا ہے۔ یہ نظام ہر جاندار میں کام کرتا ہے۔ لیکن کسی بھی بیماری کی لپیٹ میں آنے کے بعد جب پرندہ کمزور پڑھ جاتا ہے تو جسم میں اینٹی باڈیز تو بناتا ہے لیکن بہت کم مقدار میں۔

اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم نے جو ویکسین کبوتر کو کی ہوتی ہے اس سے بننے والی اینٹی باڈیز بھی کمزور پڑھ جاتی ہے اور بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتی اور جس بیماری سے تحفظ کے لیے ویکسین کی ہوتی ہے اینٹی باڈیز کمزور ہونے کی وجہ سے بیماری کے وائرس کا مقابلہ نہیں کر پاتی۔ اسی وجہ سے کبوتروں میں ویکسین کی ہونے کے باوجود وہی بیماری آن وارد ہوتی ہے۔ جس کی ویکسین وقت سے پہلے ہی کی ہوتی ہے۔

ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ویکسین کرنے کے بعد اینٹی باڈیز بن جائیں اور متعلقہ بیماری کا حملہ ہو اور وہ جسم میں اپنی جگہ بنا لے۔ایسا ممکن ہی نہیں ہے یہ سراسر سائنس کے خلاف ہے۔

کبوتروں کی مناسب تعداد

ایک اور وجہ جس پر شوقین دوست توجہ ہی نہیں دیتے۔ وہ یہ کہ اگر آپ کے کھڈوں میں کبوتر مقڑہ تعداد سے زیادہ ہیں تو ان کبوتروں کو ویکسین بالکل بھی فائدہ نہیں دے گی۔ ان کبوتروں میں بیماری ہر صورت میں آئے گی۔ اس کا صحیح طریقہ یہ کہ کھڈوں میں مناسب تعداد میں کبوتر رکھیں۔ کبوتروں کو موسم کے اعتبار سے مناسب اور فائدہ مند خوراک دیں۔ گندے پانی اور گندے اور ناقص دانے سے پرہیز کریں۔ اپنے کبوتروں کو زیادہ سے زیادہ ایسی سہولتیں دیں جس سے وہ فرٹیلائز ہوتے رہیں اور خوش رہیں۔ کبوتر کی طبعیت جتنی زیادہ خوش رہے گی اس کے اندر اتنی ہی زیادہ اینٹی باڈیز بنے گی۔ جتنی زیادہ اینٹی باڈیز بنے گی کبوتر اتنا ہی زیادہ بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جن کھڈوں میں ۵۰ کبوتروں کی گنجائش ہے ان میں ۷۰ یا ۱۰۰ کبوتر رکھتے ہیں تو ان کو ویکسین کا بالکل فائدہ نہیں کو سکتا۔ ایسے کبوتر ۲۴ گھنٹے سٹریس میں رہتے ہیں۔ ذہنی پریشانی ان کو گروتھ ہی نہیں کرنے دیتی۔ دانا کھاتے وقت بھی وہ ایک دوسرے سے جگہ کم ہونے کی وجہ سے یا دانے کی ٹرے چھوٹی ہونے کی وجہ سے آپس میں جھگڑتے ہیں۔ جن کی وجہ سے ان کی چونچ سر اور آنکھ پر اکثر ذخم بھی ہو جاتے ہیں۔ پوری خوراک بھی نہیں کھا پاتے اور بھوک کی وجہ سے ذہنی دباو کا شکار رہتے ہیں۔ کھڈے میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی وقت آرام سے بیٹھ نہیں پاتے۔ ذہنی دباو کا شکار رہتے ہیں۔

اسی طرح رات بھر تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹھیک طرح سے اپنی نیند پوری نہیں کر پاتے۔ جس کی وجہ سے نیند کی کمی اور تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں ۔

کبوتروں کو تھکاوٹ اور ذہنی دباو کا شکار نہ ہونے دیں

ایک بات دوست ذہن نشین کر لیں تھکاوٹ اور ذہنی دباو کا شکار رہنے والے پرندے اور مقررہ خوراک نا کھانے والے پرندے ویکسین ہونے کے باوجود اسی بیماری کی لپیٹ میں لازم آئیں گے۔ جس سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے ویکسن کی ہوئی ہو گی۔

اس کی سائنسی وجہ یہ ہے کہ تھکاوٹ کا شکار رہنے والے مکمل خوراک نا کھانے والے اور ذہنی دباو کا شکار رہنے والے پرندے کبھی بھی مطلوبہ مقدار میں اپنے جسم میں اینٹی باڈیز نہیں بنا سکتے۔ ایک صحت مند پرندہ اور خوش باش رہنے والا پرندہ ذہنی دباو رکھنے والے پرندے تھکاوٹ اور کم خوراک کھانے والے پرندے کے مقابلے میں اینٹی باڈیز کی گروتھ ۵۰ فیصد زیادہ کرتا ہے اور جب پرندہ اینٹی باڈیز بننے کا حدف ہی مکمل نہیں کر پائے گا تو اس بیماری کا مقابلے کا سوچنا بھی نادانی ہے یہی وہ جوہات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ویکسین کی ہونے کے باوجود وہی بیماری کبوتروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور ہم مختلف وجوہات کو اس کا زمیندار ٹھہرانے لگتے ہیں اور اصل وجوہات سے لاعلم رہتے ہیں۔

پیراٹائفائڈ کی ویکسین

لقوہ جھولہ کے علاوہ پیراٹائفائڈ کی بھی ویکسین کریں۔ کیونکہ پیراٹائیفائڈ بھی بہت ہی مہلک بیماری ہے جو بہت سے کبوتروں کو نا اڑنے کے قابل چھوڑتی ہے اور نا ہی جوڑے ہونے کے قابل چھوڑتی ہے۔ کسی کی ٹانگوں پر فالج ہو جاتا ہے۔ کسی کے کندے جام ہو جاتے ہیں۔ پیٹ کے کیڑوں کا باقاعدگی سے سدباب کرتے رہا کریں یہ بھی کبوتروں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے آنے کا راستہ بناتے ہیں۔

شدید گرمی اور شدید سردی سے پرندوں کو بچا کر رکھیں۔ خاص کر گرمیوں میں گرم پانی نا پینے دیں اور سردیوں میں ایک حد سے زیادہ ٹھنڈا پانی استعمال نا کروائیں۔ کھڈوں کی بناوٹ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق بنائیں جو گرمی اور سردی سے تحفظ دیں۔ انشاء اللہ آپ کے پرندے ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔ میرے ہر آرٹیکل کو شیئر ضرور کیا کریں تاکہ سب کا بھلا ہو۔ فقط حقیر پر تفسیر استاد خان محمد بارا لاہور۔


Social Sharing

One Comment on “کبوتروں کی ویکسین کا استعمال کیوں ضروری ہے”

Leave a Reply

Your email address will not be published.